آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ لوگ دین کے نام پر ہی دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جانے یا انجانے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کی صاف اور سیدھی تعلیمات کو چھوڑ کر لوگ اپنے پیروں، باباؤں اور بزرگوں کی بنائی ہوئی رسومات اور روایتوں کے پیچھے چل پڑے ہیں۔
آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ جب توحید اور سنت کی بات کی جاتی ہے تو کچھ لوگوں کے چہرے بگڑ جاتے ہیں، لیکن جب مزارات، بزرگوں اور رسم و رواج کا ذکر کیا جائے تو وہی لوگ خوشی اور جوش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی یہی وہ دین ہے جس کی تعلیم قرآن و حدیث دیتے ہیں؟
![]() |
| Deen ki mukhalifat Karne walon ko Qur'an Ki Sakht Warning |
اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور عمل کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی انجانے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دین صرف وہی ہے جو قرآن اور صحیح حدیث سے ثابت ہو۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ بہت سے لوگ اپنے مذہبی رہنماؤں کی اندھی تقلید کو ہی دین سمجھ بیٹھے ہیں۔ اسی وجہ سے آج حق اور باطل میں فرق کرنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔
✦ آج کا حال : دین کے نام پر شرک اور بدعت
آج کے دور میں دین کے نام پر بہت سے ایسے کام کیے جا رہے ہیں جنہیں لوگ نیک سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ شرک، بدعت اور خرافات سے زیادہ کچھ نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ لوگ اپنی طرف سے بنائی ہوئی رسومات کو دین کا حصہ مان لیتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث میں ان کی کوئی اصل نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سخت انداز میں فرمایا:
"اور جو شخص رسول (ﷺ) کی مخالفت کرے، ہدایت واضح ہو جانے کے بعد، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلے، تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور آخرت میں جہنم میں جھونک دیں گے، اور وہ بہت بری جگہ ہے۔"
(النساء: 115)
آج ہمارے معاشرے میں:
- اولیاء اور پیروں کو اللہ کا درجہ دیا جاتا ہے۔
- قبروں سے مدد مانگی جاتی ہے۔
- نبی ﷺ اور اولیاء کے نام پر جھوٹی کہانیاں گھڑ کر دین کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
- میلے، جھنڈے اور اندھی رسومات کو عبادت سمجھا جاتا ہے۔
یہ سب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام ایجاد کرے، جو اس میں سے نہیں ہے، وہ مردود ہے۔"
(صحیح بخاری و مسلم)
👉 Allah ki Raah me kharch Karne ki Ahmiyat Kya hai padhen Yahan
✦ قرآن کی روشنی : مشرکوں کا اصل چہرہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور جب صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل تنگ ہو جاتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں (بزرگوں، اولیاء، بتوں) کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ اچانک خوش ہو اٹھتے ہیں۔”
(الزمر: 45)
✦ وضاحت:
یہ آیت بالکل آج کے معاشرے کی حالت بیان کرتی ہے۔ جب توحید اور صرف اللہ کی عبادت کی بات کی جاتی ہے تو بہت سے لوگ چڑ جاتے ہیں، لیکن جب پیروں، باباؤں اور بزرگوں کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے تفسیر میں لکھا کہ یہ آیت ان لوگوں پر صادق آتی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اولیاء اور بزرگوں کو عبادت و تعظیم کا مستحق بنا لیتے ہیں۔
✦ اہل توحید بمقابلہ اہل بدعت
1. اہل توحید
- صرف اللہ کو مددگار اور مالک مانتے ہیں۔
- قرآن و حدیث کی روشنی میں دین پر چلتے ہیں۔
- شرک اور بدعت سے روکتے ہیں اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے ہیں۔
- اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حق میں حجت کرتے ہیں۔
2. اہل بدعت اور شرک کرنے والے
- اپنے پیروں اور بزرگوں کو دین کا حق دار بناتے ہیں۔
- قبروں اور اولیاء سے مدد مانگتے ہیں۔
- قرآن و سنت کی بجائے اپنے مذہبی لیڈروں کے پیچھے چلتے ہیں۔
- اللہ اور رسول ﷺ کے حق میں نہیں بلکہ اپنے بزرگوں کے حق میں حجت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو رب بنا لیا۔"
(التوبہ: 31)
👉 Wo kaunsi Aankhen hain jo jahannum se aazad hain unhe Jahannum ki Aag nahi chhuwegi padhen yahan
✦ احادیث کی تعلیمات
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم لوگ میری سنت اور میرے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو اور نئے نئے ایجاد کیے ہوئے کاموں سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔"
(ابو داؤد، ترمذی)ایک اور حدیث میں فرمایا:
"تم ضرور ان لوگوں کے طریقے پر چلو گے جو تم سے پہلے گزرے، بالکل قدم بہ قدم، یہاں تک کہ اگر وہ چھپکلی کے بل میں گھسے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔"
(صحیح بخاری)
👉 یعنی جیسے پچھلی قومیں شرک اور بدعت میں ڈوب گئی تھیں، ویسے ہی اس امت میں بھی لوگ ان کی پیروی کریں گے۔
آج کا معاشرہ دو حصوں میں بٹ چکا ہے:
- ایک وہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے۔
- اور دوسرا وہ جو اپنے پیروں اور بزرگوں کی غلامی کرتا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ دین صرف وہی ہے جو قرآن و حدیث میں آیا ہے۔
شرک، بدعت اور خرافات اللہ اور رسول ﷺ کی مخالفت ہے اور اس کی سزا جہنم ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ:
- توحید پر قائم رہیں۔
- بدعت اور شرک سے بچیں۔
- اور صحیح دین کی دعوت دیتے رہیں۔
✦ نتیجہ (Conclusion)
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی اصل دین ہے۔ جو لوگ اللہ کے بجائے اپنے پیروں، باباؤں اور بزرگوں کو رب بنا لیتے ہیں وہ حقیقت میں گمراہی کے راستے پر ہیں۔ قرآن نے صاف الفاظ میں وعید سنائی ہے کہ مشرکوں کے لئے جنت حرام ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں سے ہر طرح کی غلامی مٹا دیں اور صرف اللہ کی عبادت کریں۔ کیونکہ اللہ ہی ہمارا مالک ہے، وہی مددگار ہے اور وہی ہماری دعاؤں کو سننے والا ہے۔
👉 جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرتا ہے، وہ توحید پر قائم رہے گا اور ہر طرح کی بدعت و خرافات سے دور رہے گا۔
🤲 يا اللہ ہمیں صحیح دین اور صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ اور اپنے اور پیارے رسولﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرما. آمین یا رب العالمین
FAQs
اللّٰہ اور رسول کی مخالفت کرنے والے کون ہیں
✅ وہ لوگ جو شخصیت پرستی کے شکار ہیں اللہ اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ لوگ اللہ اور رسول کے مقابلے میں اپنے پیروں اور بزرگوں کی باتیں پیش کرتے ہیں اور اسی کو دین سمجھتے ہیں۔
کیا پیروں بزرگوں سے مدد مانگنا صحیح ہے
✅ نہیں، مدد صرف اللہ سے مانگنی چاہیے۔ قرآن میں ہے: “اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔” (یونس: 107)
کیا بدعت کرنے سے دین میں کوئی فائدہ ہے
✅ بالکل نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ہر نیا ایجاد کیا ہوا عمل (بدعت) گمراہی ہے۔” (ابو داؤد، ترمذی)
اہل توحید اور اہل بدعت میں کیا فرق ہے
✅ اہل توحید صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور قرآن و حدیث کو مانتے ہیں، جبکہ اہل بدعت اپنے پیروں اور بزرگوں کو حق سے بڑھا کر ان کے لئے حجت کرتے ہیں۔
کیا قبروں پر چادر چڑھانا یا میلے لگنا صحیح ہے
✅ نہیں، یہ سب رسومات قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ بلکہ یہ گمراہ کرنے والے کام ہیں۔
صحیح دین کی پہچان کیسے ہوگی
✅ صحیح دین وہی ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے، جس میں نہ شرک ہے اور نہ بدعت۔


Please don't enter any spam link