Rishton ko Todne wali Shaitani Saazishen | Rishton ki hifazat ka Tareeqa
(اسلامی رہنمائی | اصلاحی مضمون)
![]() |
| Rishton ko Todne me shaitan ki chaal |
قرآن اور سنت ہمیں یہ حقیقت بتاتے ہیں کہ رشتوں کو توڑنا شیطان کا سب سے پسندیدہ کام ہے۔ وہ انسان کے دل میں دھیرے دھیرے زہر گھولتا ہے، یہاں تک کہ محبت دشمنی میں بدل جاتی ہے۔
اس مضمون Rishton ko Todne wali Shaitani Saazishen | Rishton ki hifazat ka Tareeqa میں ہم جانیں گے کہ شیطان کس طرح رشتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسلام ہمیں ان شیطانی سازشوں سے بچنے کا کون سا راستہ دکھاتا ہے۔
شیطان کا اصل مقصد کیا ہے؟
باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے
چھوٹی بات کو بڑا فساد بنا دیتا ہے
دلوں میں بدگمانی پیدا کرتا ہے
میاں بیوی کے رشتے کو شیطان کیسے خراب کرتا ہے؟
چھوٹی بات کو بڑا بنا کر
یا بیوی کا کسی بات میں تاخیر کر دینا
“تمہیں میری کوئی قدر ہی نہیں”
“تمہیں میری پروا نہیں رہی”
پھر سوالات شروع ہو جاتے ہیں:
کہاں تھے؟
اب پہلے جیسا خیال کیوں نہیں رکھتے؟
شک اور بدگمانی پیدا کر کے
شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار شک ہے۔“اب پہلے جیسی محبت باقی نہیں رہی”
“کچھ نہ کچھ ضرور چھپا رہے ہیں”
پھر اس کے نتیجے میں:
باتوں کا غلط مطلب نکالنا
بغیر دلیل الزام لگانا
اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے
اور رشتہ بوجھ بن جاتا ہے
Read This Also: Allah ki raah me maal kharch Karne ke fayede Kya Hain Yahan padhen
موازنہ کا زہر ڈال کر
شیطان کبھی آپ کے شریکِ حیات کو برا نہیں کہتا، بلکہ کسی تیسرے کو بہتر بنا کر پیش کرتا ہے۔بات کو طلاق تک پہنچا دینا
جب جھگڑا، شک اور موازنہ جڑ پکڑ لیتے ہیں تو شیطان آخری وار کرتا ہے:اس رشتے میں اب کچھ نہیں رکھا”
ابلیس اپنے شیاطین میں سب سے زیادہ خوش اُس سے ہوتا ہے جو میاں بیوی کے درمیان جدائی کرواتا ہے۔(صحیح مسلم)
نصیحت :
شک کی جگہ اعتماد
اور شکایت کی جگہ شکر
یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے شیطان کی چال ناکام ہو جاتی ہے اور میاں بیوی کا رشتہ پھر سے رحمت بن جاتا ہے۔
بھائی بھائی اور بہن بہن کے رشتے شیطان کیسے توڑتا ہے؟
بھائی بہن کا رشتہ خون، بچپن کی یادوں اور ایک ہی گھر کی محبت سے جُڑا ہوتا ہے، مگر شیطان اسی مضبوط رشتے کو بھی آہستہ آہستہ کمزور کر دیتا ہے، یہاں تک کہ سلام دعا بھی ختم ہو جاتی ہے۔حسد اور جلَن پیدا کر کے
شیطان سب سے پہلے دل میں حسد ڈالتا ہے، کیونکہ حسد وہ آگ ہے جو سب سے پہلے انسان کے اپنے دل کو جلاتی ہے۔دل میں وسوسے ڈالتا ہے:“امّی ابو اسے زیادہ چاہتے ہیں”
“ہر اچھی چیز اسی کو کیوں ملتی ہے؟”
“ابّا تو بس اسی کی سنتے ہیں”
یہ احساس آہستہ آہستہ:
پھر دل میں کینہ بیٹھ جاتا ہے
اور آخرکار بھائی بہن ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں
حالانکہ حقیقت میں والدین کا جھکاؤ کم و بیش ہو سکتا ہے، مگر شیطان اسے ناانصافی کا عنوان دے کر دلوں میں زہر بھر دیتا ہے۔
چغلی اور غلط فہمی پھیلا کر
جب حسد جڑ پکڑ لیتا ہے تو شیطان دوسرا ہتھیار استعمال کرتا ہے:چغلی۔آدھی بات سنا کر پوری کہانی کا رخ بدل دینا
بات میں اپنی طرف سے جھوٹ اور اضافہ کر دینا
جیسے:
“تمہیں معلوم ہے اُس نے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟”
اس طرح:
مال اور وراثت کے جھگڑے کے ذریعے
Read This Also: Qayamat ke khaufnak manzar Aur anjaam
نصیحت
بھائی بہن ،بھائی بھائی یا بہن کے رشتے اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔حسد سے بچنا چغلی سے دور رہنا اور حق کے معاملے میں اللہ سے ڈرنایہی وہ چیزیں ہیں جو:
شیطان کی سازشوں کو ناکام بناتی ہیں اور ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو بچا لیتی ہیں۔
![]() |
| islam mein rishton ki hifazat |
اولاد اور والدین کے رشتے میں شیطان کیسے داخل ہوتا ہے؟
شیطان کی چالیں
اولاد اور والدین کا رشتہ دنیا کے سب سے مقدس اور نازک رشتوں میں سے ہے۔ یہ رشتہ قربانی، محبت اور دعاؤں پر قائم ہوتا ہے، مگر شیطان اس رشتے کو بھی خراب کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، کیونکہ جب اولاد والدین سے کٹ جاتی ہے تو پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
نافرمانی کو “آزادی” بنا کر دکھانا
شیطان اولاد کے ذہن میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ والدین کی بات ماننا پسماندگی ہے۔“ہر بات ماننا ضروری تھوڑی ہے”
“میری زندگی ہے، مجھے اپنی مرضی سے جینے دو”
یوں شیطان:
نافرمانی کو آزادی کا نام دے دیتا ہے
اور آہستہ آہستہ اولاد کو والدین سے دور کر دیتا ہے
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ
اصل آزادی والدین کی اطاعت میں ہے،نہ کہ والدین کی نافرمانی میں۔
والدین کی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر دکھانا
شیطان کی پرانی چال یہ ہے کہ وہ اچھائیوں کو چھپا دیتا ہے اور کمزوریوں کو بڑا بنا کر دکھاتا ہے۔اولاد کے دل میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے:
“کچھ سمجھتے ہی نہیں”
“دوسروں کے ماں باپ زیادہ اچھے ہیں”
اس طرح:
ان کی ایک آدھ بات بھی ناقابلِ برداشت لگنے لگتی ہے
اور دل میں شکوے شکایتیں جمع ہو جاتی ہیں
شیطان چاہتا ہے کہ اولاد احسان دیکھے ہی نہ، صرف کمیوں پر نظر رکھے۔
بدتمیزی کو حق سمجھانا
جب دل میں نافرمانی اور شکوہ بیٹھ جاتا ہے تو شیطان اگلا قدم اٹھاتا ہے:طعنے دینا یا تلخ جواب دینا
بزرگوں کو بوجھ سمجھنا
اولاد خود کو یہ کہہ کر مطمئن کرتی ہے:
“میری بھی اپنی رائے ہے”
“میں بھی انسان ہوں، خاموش کیوں رہوں؟”
جبکہ قرآنِ کریم کا صاف حکم ہے:
“اور ان سے اُف تک نہ کہو۔”(سورۃ الاسراء: 23)
یعنی:نہ آواز بلند ہو
نہ لہجہ سخت ہو
نہ دل میں تحقیر ہو
نصیحت
والدین کا ادب اور خدمت اللہ کی رضا حاصل کرنے کا آسان ترین ذریعہ ہے۔صبر کو اختیار کیجیےشکر کے ساتھ رشتہ نبھائیے
اور یہ یاد رکھیے کہ
جو آج والدین کے ساتھ کرے گا،کل وہی اس کی اولاد اس کے ساتھ کرے گی۔
شیطان رشتے توڑنے کے لیے کون سے ہتھیار استعمال کرتا ہے؟
شیطان رشتوں کو ایک دن میں نہیں توڑتا، بلکہ چھوٹے چھوٹے ہتھیاروں سے دلوں کو زخمی کرتا ہے، یہاں تک کہ محبت نفرت میں بدل جاتی ہے۔
🔹 (1) غصہ
غصہ شیطان کا سب سے تیز ہتھیار ہے۔غصے میں انسان:
- ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے
- ایسے فیصلے کر لیتا ہے جو رشتوں کو توڑ دیتے ہیں
🔹 (2) شک
شک رشتوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
- بغیر دلیل بدگمانی
- ہر بات کو منفی رخ سے دیکھنا
- دل ہی دل میں فیصلے کر لینا
شیطان جانتا ہے کہ جہاں شک داخل ہوا، وہاں سکون نکل گیا۔
🔹 (3) حسد
حسد وہ زہر ہے جو سب سے پہلے انسان کے اپنے دل کو جلاتا ہے۔
کسی کی خوشی برداشت نہ ہونا
کسی کی ترقی ناگوار گزرنا
حسد رشتوں کو دشمنی میں بدل دیتا ہے۔
🔹 (4) غیبت
پیٹھ پیچھے برائی کرنا:
اعتماد توڑ دیتی ہے
دلوں میں نفرت بھر دیتی ہے
جھوٹے قصے پھیلا دیتی ہے
شیطان غیبت کے ذریعے ایک انسان کو دوسرے کی نظروں میں گرا دیتا ہے۔
🔹 (5) زبان کی تلخی
کڑوے الفاظ:
طعنے
طنز
دل دکھانے والے جملے
شیطان خوب جانتا ہے کہ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے،مگر زبان کا زخم برسوں نہیں بھرتا۔
🔹 (6) صبر کی کمی
صبر نہ ہو تو:
چھوٹی بات بڑا مسئلہ بن جاتی ہے
ہر معاملہ جھگڑے میں بدل جاتا ہے
شیطان چاہتا ہے کہ انسان ایک لمحہ بھی ٹھہر کر نہ سوچے۔
شیطان سے رشتوں کو کیسے بچایا جائے؟
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام چالوں سے رشتوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟
(1) ہر جھگڑے اور فضول بحث میں رک کر سوچیں
جب بھی بحث یا غصہ آئے، خود سے ایک سوال کریں:
کیا یہ بات اللہ کو پسند ہے؟”اگر جواب نہیں ہوتو وہیں رک جانا ہی دانشمندی ہے۔
🌿 (2) غصے میں فیصلہ نہ کریں، خاموشی اختیار کریں
🌿 (3) دعا کو ہتھیار بنائیں
ہر جھگڑے کے وقت
شیطان سے اللہ کی پناہ مانگیں۔
پڑھیں:
“اَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ”
اور رشتوں کی سلامتی کے لیے
روزانہ دعا کرنا معمول بنا لیں۔
🌿 (4) ایک دوسرے کی نیت کو اچھا سمجھیں (حُسنِ زن)
شیطان بدگمانی چاہتا ہے،
جبکہ اسلام حُسنِ زن سکھاتا ہے۔
بدگمانی چھوڑ دیں
نیت کو اچھا سمجھیں
بات صاف صاف پوچھ لیں
اچھے گمان سے
بڑے بڑے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں۔
🌿 (5) معافی کو کمزوری نہیں، طاقت سمجھیں
🌿 نصیحت
شیطان کا مقصد رشتے توڑنا ہے اور اسلام کا مقصد رشتے جوڑنا۔
جہاں:
- صبر ہو
- دعا ہو
- اور معافی ہو
وہاں شیطان کی تمام سازشیں ناکام ہو جاتی ہیں۔
Read This Also: Agar sakoon chahiye to samaj me logon ki soch Aur baaton se Azad rahen,dhayan na dijiye
نتیجہ (Conclusion)
اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند جڑے ہوئے دل ہیں۔
اگر ہم غصے، شک اور حسد پر قابو پا لیں تو شیطان ہمارے گھروں میں فساد نہیں کر سکے گا۔
یاد رکھیں:
رشتوں میں فتح نہیں، رحمت مطلوب ہے۔
FAQs
1) کیا واقعی شیطان رشتوں میں فساد ڈالتا ہے؟
جی ہاں، قرآن میں واضح ہے کہ شیطان انسانوں کے درمیان دشمنی اور بغض ڈالنا چاہتا ہے، خاص طور پر قریبی رشتوں میں۔
2) شیطان میاں بیوی کے رشتے کو سب سے پہلے کیوں نشانہ بناتا ہے؟
کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ خاندان کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر یہ ٹوٹ جائے تو اولاد اور پورا گھرانہ متاثر ہوتا ہے۔
3) کیا ہر جھگڑا شیطان کی وجہ سے ہوتا ہے؟
ہر اختلاف شیطان کی وجہ سے نہیں ہوتا، لیکن جب غصہ، بدگمانی اور ضد آ جائے تو سمجھ لیں کہ شیطان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
4) بہن بھائیوں کے درمیان نفرت کی اصل وجہ کیا ہوتی ہے؟
اکثر حسد، غلط فہمی، چغلی اور مال یا وراثت کا مسئلہ بہن بھائیوں میں دوری کا سبب بنتا ہے۔
5) اولاد والدین کی نافرمانی کیوں کرنے لگتی ہے؟
شیطان نافرمانی کو آزادی کا نام دے کر اولاد کو گمراہ کرتا ہے اور والدین کی باتوں کو پرانا اور بے فائدہ ظاہر کرتا ہے۔
6) رشتوں کو شیطان سے محفوظ رکھنے کا سب سے آسان طریقہ کیا ہے؟
اللہ کو یاد رکھنا، غصے پر قابو پانا، حسنِ ظن رکھنا اور ایک دوسرے کو معاف کرنا سب سے مؤثر طریقے ہیں۔
7) کیا دعا سے رشتے بچ سکتے ہیں؟
جی ہاں، دعا مومن کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ دعا سے دل نرم ہوتے ہیں اور شیطانی وسوسے کمزور پڑ جاتے ہیں۔



Please don't enter any spam link