دنیا ہمیشہ سے ہی ایک عجب دستور پر چلتی آئی ہے۔ اس تصویر میں موجود کیل (nail) ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ٹیڑھی کیل کو کوئی ٹھوکتا نہیں، بلکہ اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن سیدھی کیل ہمیشہ دیوار میں ٹھونکی جاتی ہے۔ Terhe ko Chhorna Aur Seedhe ko Thok دیا جاتا ہے
دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات سیدھا اور سچا انسان مشکلات کا شکار ہوتا ہے جبکہ ٹیڑھا اور جھوٹا شخص بظاہر آسانی سے نکل جاتا ہے۔
یہی پیغام اس تصویر میں دیا گیا ہے کہ:
"ٹیڑھے کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور سیدھے کو ٹھوک دیا جاتا ہے۔"
![]() |
Haq aur baatil ki Haqeeqat |
حقیقت کی عکاسی سیدھا چلنے والوں کا انجام
سچائی پر قائم رہنے والے اکثر تنقید کا شکار بنتے ہیں۔جو شخص ایمانداری اور سچائی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، اسے زیادہ مشکلات، رکاوٹیں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی ہیں، وہ آزمائشوں سے گزرتے ہیں اور دنیا کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔جبکہ جو لوگ جھوٹ، فریب یا دھوکے کا سہارا لیتے ہیں، وہ اکثر وقتی طور پر بچ نکلتے ہیں۔
- جو لوگ انصاف کی بات کرتے ہیں، وہی زیادہ مخالفت سہتے ہیں۔
- جو لوگ ایمانداری پر قائم رہتے ہیں، انہیں زیادہ مشکل راستے ملتے ہیں۔
- سیدھی راہ اختیار کرنے والے کو دنیا آسانی سے قبول نہیں کرتی، بلکہ اسے آزمائشوں میں ڈالتی ہے۔
ٹیڑھوں کو کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟
دنیا والوں کے نزدیک "مصلحت" سب سے بڑی چیز ہے۔ جو لوگ جھوٹ، فریب یا دھوکے کا سہارا لیتے ہیں، وہ اکثر وقتی طور پر بچ نکلتے ہیں۔
- ٹیڑھے لوگ جھوٹ بول کر بھی بچ نکلتے ہیں۔
- بےایمان لوگ دھوکہ دے کر بھی عزتدار کہلائے جاتے ہیں۔
- دنیا کی نظروں میں سیدھا پن کمزوری سمجھا جاتا ہے، اور ٹیڑھاپن ہوشیاری۔
موجودہ دور کا منظرنامہ
- آج کل کے معاشرے میں ایماندار ملازم کو زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ چاپلوس اور دھوکہ باز اکثر ترقی پا لیتے ہیں۔
- سیدھے اور صاف دل انسان کو اکثر تنقید اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
- جھوٹے وعدے کرنے والا سیاستدان یا کاروباری زیادہ کامیاب دکھائی دیتا ہے۔
ایسے لوگوں سے متعلق قرآن و حدیث میں کیا کہا گیا ہے ؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔"
(سورۃ الإسراء: 81)
اس سے معلوم ہوا کہ چاہے وقتی طور پر ٹیڑھے لوگ کامیاب دکھائی دیں، لیکن اصل کامیابی صرف سیدھی راہ پر چلنے والوں کے لیے ہے۔
"سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔"(صحیح بخاری و مسلم)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"سب سے بہتر جہاد یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا۔" (سنن ابی داؤد)
نصیحت
یہ تصویر ہمیں ایک بڑی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ:
- سیدھا اور سچا انسان اگر آزمائش میں ہے تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی اصل طاقت ہے۔
- اللہ تعالیٰ کے نزدیک سچائی کا اجر سب سے بڑا ہے، اگرچہ دنیا وقتی طور پر اس کا ساتھ نہ دے۔
- جو لوگ ٹیڑھے راستے سے بچتے ہیں، وہی آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔
ہماری ذمہ داری
- ہمیں ہمیشہ سیدھی راہ پر ڈٹے رہنا چاہیے، چاہے دنیا ہمیں ٹھوکنے کی کوشش کرے۔
- یاد رکھیں، جو سیدھا ہے وہی مضبوطی سے زمین میں جم سکتا ہے۔
- دنیا وقتی طور پر ٹیڑھے کو چھوڑ دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔
نتیجہ (Conclusion)
یہ تصویر ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ زندگی میں اگر آپ کو ٹھوکریں مل رہی ہیں، مشکلات آرہی ہیں، لوگ آپ پر تنقید کر رہے ہیں—تو پریشان نہ ہوں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ سیدھے ہیں اور حق پر ہیں۔ کیونکہ جو ٹیڑھا ہے، دنیا اسے وقتی طور پر چھوڑ دیتی ہے، لیکن انجام کار وہ ناکام ہوتا ہے۔
یہ دستورِ زمانہ ہے کہ دنیا میں سیدھے کو ٹھوکا جاتا ہے اور ٹیڑھے کو چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کامیابی وقتی ہے اور آخرت کی کامیابی دائمی ہے۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ سچائی اور ایمان داری پر قائم رہیں، چاہے دنیا کتنی ہی مخالفت کرے۔
FAQs (Frequently Asked Questions)
1. اس تصویر کا اصل سبق کیا ہے؟
✅ سبق یہ ہے کہ جو لوگ سیدھے اور سچے ہوتے ہیں، وہ زیادہ مخالفت اور آزمائشوں کا شکار بنتے ہیں، جبکہ ٹیڑھے لوگ وقتی طور پر بچ نکلتے ہیں۔
2. سیدھی راہ اختیار کرنے والوں کو ہمیشہ مشکلات کیوں ملتی ہیں؟
✅ کیونکہ دنیا میں سچ بولنا اور حق پر قائم رہنا مشکل ہے، اور اکثر لوگ اسے قبول نہیں کرتے۔ لیکن آخرت میں کامیابی صرف انہی کے لیے ہے۔
3. قرآن و حدیث میں اس بارے میں کیا ہدایت ملتی ہے؟
✅ قرآن میں آیا ہے کہ "حق آیا اور باطل مٹ گیا" (سورۃ الاسراء: 81)، جبکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ "سب سے بڑا جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔"
4. ٹیڑھے اور سیدھے کی مثال ہماری زندگی پر کیسے فِٹ بیٹھتی ہے؟
✅ جیسے سیدھی کیل کو ٹھوکا جاتا ہے، ویسے ہی سیدھے لوگ دنیا کی ٹھوکریں سہتے ہیں۔ اور ٹیڑھے کو وقتی طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن اس کی کوئی اصل بنیاد نہیں ہوتی۔
5. ہمیں اس سے کیا سبق لینا چاہیے؟
✅ ہمیں ہمیشہ سیدھی راہ پر قائم رہنا چاہیے، چاہے دنیا ہمیں ٹھوکے یا مخالفت کرے، کیونکہ اصل کامیابی آخرت میں ہے۔


Please don't enter any spam link