کیا آپ جانتے ہیں کہ اللّٰہ سبحان وتعالیٰ نے سب سے پہلے کس کو پیدا کیا اور کیوں اُنہیں جنّت سے نکالا گیا ؟آخر اُن سے ایسی کیا خطا ہوئی جو جنّت سے نکلنا پڑا ؟ اگر نہیں جانتے ہیں تو یہ تحریر Hazrat Adam (A.s) Ka Waqiya Aur iblees Ki Na-farmani آپ کے لئے ہے ضرور پڑھیں اسے اور دوسروں ٹک بھی پہنچائیں۔
دنیا کی سب سے پہلی اور اہم واقعہ حضرت آدم علیہ السلام کی ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کی قدرت، فرشتوں کی اطاعت اور ابلیس کے تکبر کا ایک عظیم سبق ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت آدمؑ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے تاکہ انسان اپنی حقیقت، اپنے مقصدِ زندگی اور اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو پہچان سکے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا، انہیں علم عطا کیا اور فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ تمام فرشتوں نے فوراً اللہ کے حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔ یہی تکبر اس کی ہمیشہ کی تباہی کا سبب بن گیا۔
![]() |
Hazrat Adam A.S ki paidaish aur Iblees ke takabbur |
حضرت آدمؑ کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی اصل عزت اللہ کی اطاعت، عاجزی اور توبہ میں ہے، جبکہ تکبر انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتا ہے۔
👉 Coming next: Adam A.s ki Tauba Kaise Qabool huyi padhen Yahan Qur'an aur Hadees ki Roshni me
حضرت آدمؑ کی پیدائش
“بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر فرمایا ‘ہو جا’ تو وہ ہو گئے۔”ایک اور مقام پر فرمایا:
(سورۃ آلِ عمران 3:59)
“اور بے شک ہم نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا۔”
(سورۃ الحجر 15:26)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔”
(صحیح البخاری، حدیث: 6227)
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو اپنے ہاتھوں سے پیدا فرمایا اور ان میں روح پھونکی:
“پھر جب میں اسے درست کر لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر جانا۔”یہ انسان کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عزت کو ظاہر کرتا ہے۔
(سورۃ ص 38:72)
فرشتوں کو سجدے کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔”(سورۃ البقرہ 2:34)
یہ سجدہ عبادت کا نہیں بلکہ تعظیم اور احترام کا تھا۔ تمام فرشتوں نے اللہ کا حکم فوراً مان لیا، مگر ابلیس نے تکبر کی وجہ سے انکار کر دیا۔
ابلیس کا تکبر اور نافرمانی
قرآنِ مجید میں ہے:
“ابلیس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔”(سورۃ الاعراف 7:12)
ابلیس کا یہی تکبر اس کی بربادی کا سبب بنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 91)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“وہ تکبر کرنے لگا اور کافروں میں سے ہو گیا۔”
(سورۃ ص 38:74)
یہ آیات بتاتی ہیں کہ تکبر انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے۔
حضرت آدمؑ کا جنت میں قیام
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔”(سورۃ البقرہ 2:35)
لیکن شیطان نے انہیں بہکایا اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کروائی۔
“پھر شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا۔”
(سورۃ البقرہ 2:36)
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور ہمیشہ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حضرت آدمؑ کی توبہ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ بے شک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔”
(سورۃ البقرہ 2:37)
حضرت آدمؑ کی دعا قرآن میں یوں مذکور ہے:
“اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تُو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”یہ دنیا کی پہلی توبہ تھی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔
(سورۃ الاعراف 7:23)
حضرت آدمؑ کے واقعے سے ملنے والے سبق
1. انسان کی اصل مٹی ہے
انسان کو کبھی غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کی اصل مٹی ہے۔
2. تکبر تباہی کا سبب ہے
ابلیس کا تکبر اس کی ہمیشہ کی بربادی کا باعث بنا۔
3. گناہ کے بعد توبہ ضروری ہے
حضرت آدمؑ نے غلطی کے بعد فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔
4. شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے
“بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے، لہٰذا تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔”
(سورۃ فاطر 35:6)
آج کے دور میں اس واقعے کی اہمیت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔”اسی لیے ہمیں چاہیے کہ:
(صحیح مسلم، حدیث: 2588)
- تکبر سے بچیں
- اللہ کی اطاعت کریں
- روزانہ توبہ کریں
- شیطان کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگیں
اختتامیہ
حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور نصیحت کا خزانہ ہے۔ اس واقعے میں انسان کی پیدائش، اللہ تعالیٰ کی قدرت، ابلیس کا تکبر اور توبہ کی عظمت سب کچھ موجود ہے۔
ابلیس نے تکبر کی وجہ سے اپنی ہمیشہ کی کامیابی کھو دی، جبکہ حضرت آدمؑ نے توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کر لی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان سے غلطی ہو جانا کمزوری ہے، لیکن تکبر اور ضد تباہی ہے۔
اگر ہم آج بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے رجوع کریں، اپنی غلطیوں پر ندامت محسوس کریں اور شیطان کے دھوکے سے بچنے کی کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمارے لیے بھی کھل سکتی ہے۔
🤲دعا
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
Rabbana zalamna anfusana wa illam taghfir lana wa tarhamna lanakunanna minal khasireen.
“اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تُو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”
FAQs:
Q1: Hazrat Adam (A.S) ko kis cheez se paida kiya gaya?
Allah ﷻ ne Hazrat Adam عليه السلام ko mitti se paida farmaya।
(Surah Aal-e-Imran 3:59, Surah Al-Hijr 15:26)
Q2: Farishton ko Hazrat Adam (A.S) ko sajda karne ka hukm kyun diya gaya?
Allah ﷻ ne Hazrat Adam عليه السلام ki izzat aur maqam zahir karne ke liye farishton ko sajda-e-ta‘zeemi ka hukm diya tha।
Q3: Iblees ne sajda karne se inkaar kyun kiya?
Iblees ne takabbur ki wajah se sajda karne se inkaar kiya aur kaha ke woh aag se paida hua hai jabke Adam mitti se paida kiye gaye।
(Surah Al-A‘raf 7:12)
Q4: Kya Iblees farishta tha?
Nahi, Iblees farishta nahi tha balki jinn tha।
(Surah Al-Kahf 18:50)
Q5: Hazrat Adam (A.S) aur Hazrat Hawwa ko Jannat se kyun nikala gaya?
Shaitan ke waswase me aakar unhone us darakht ka phal kha liya jisse Allah ﷻ ne mana farmaya tha।
Q6: Hazrat Adam (A.S) ki tauba kaise qabool hui?
Hazrat Adam عليه السلام ne Allah ﷻ se sache dil se maafi maangi, to Allah ne unki tauba qabool farma li।
(Surah Al-Baqarah 2:37)
Q7: Hazrat Adam (A.S) ke waqiye se kya sabaq milta hai?
Is waqiye se tawazu, tauba, Allah ki ita‘at aur Shaitan ke dhokhe se bachne ka sabaq milta hai।
Q8: Takabbur ke baare me Islam kya kehta hai?
Rasulullah ﷺ ne farmaya:
“Jiske dil me zarra barabar bhi takabbur hoga woh Jannat me dakhil nahi hoga.”
(Sahih Muslim, Hadith: 91)

%20Ka%20Waqiya%20Aur%20iblees%20Ki%20Na-farmani.webp)
Please don't enter any spam link